’شوبز میں باہمی رضامندی سے جنسی تعلقات قائم ہوتے ہیں‘




گزشتہ ایک سال سے دنیا بھر کی فلم انڈسٹریز میں خواتین و اداکاراؤں کو جنسی طور پر ہراساں اور ’ریپ‘ کا نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے کہانیاں سامنے آ رہی ہیں۔
اسی طرح بولی وڈ میں بھی کافی عرصے سے اداکاراؤں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور انہیں ’کاسٹنگ کاؤچ‘ یعنی (کام کے بدلے جنسی تعلقات) کا نشانہ بنائے جانے پر بحث جاری ہے۔
گزشتہ ہفتے بولی وڈ کی معروف کوریوگرافر سروج خان نے کہا تھا کہ فلم انڈسٹری میں کاسٹنگ کاؤچ بابا آدم کے زمانے سے چلی آ رہی ہے اور یہاں ہر کوئی ہر لڑکی پر ہاتھ صاف کرنا چاہتا ہے۔
سروج خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ بولی وڈ میں کاسٹنگ کاؤچ سے انکار نہیں کیا جاسکتا، تاہم یہاں ایسے معاملات باہمی رضامندی سے بھی ہوتے ہیں، اگر لڑکیاں ایسا نہیں کرنا چاہیں تو انہیں کوئی بھی کچھ نہیں کرسکتا۔
اگرچہ بعد ازاں سروج خان نے اپنے بیان پر معافی بھی مانگ لی تھی، تاہم ان کے بیان کے بعد اس معاملے پر نئے بحث کا آغاز ہوچکا ہے۔
Post Published in Dawn News